خدارا نوجوان نسل کو محفوظ کرے
بڑے دکھ کے ساتھ یہ تحریر کر رہا ھوں کہ وطن عزیز کی درسگاہیں کس طرف گامزن ھیں والدین جو کہ اپنا پیٹ کاٹ کر اپنے بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کر رہے ہوتے ہیں مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رھا ھے کہ یہ یونیورسٹیاں ایک اچھا شہری بنانا تو دور کی بات ھے بچوں کو فحاشی عریانیت بد تمیزی اپنے سے بڑے سے بات کیسے کرتے ھیں افسوس کہ نہ وہ طلبہ رھے اور نہ وہ استاتذہ رھیے۔ مجھے اچھی طرح یاد ھے کہ سکول کے زمانے میں اسمبلی میں بچوں سے فجر کی نماز کی باز پرس ھوتی تھی اور سکول کے گراؤنڈ میں نماز با جماعت کرواتا تھے ظہر کی نماز میں اساتذہ کرام اور طلبہ ایک ساتھ نماز ادا کرتے مگر اب اس کی جگہ تعلمی اداروں میں موسیقی ناچ گانے لڑکے اور لڑکیاں علم کے بجاۓ عام عشق معشوقی کے ساتھ ساتھ منشیات کی فراہمی اور نشے کے عادی بنتے جارھے ھوتے ھیں جہاں والدین کی لاپروائی ھے تو وہاں حکومت کی بھی زمہ داری ھے کہ کہ بچوں میں زھر تقسیم کرنے والوں پر نہ صرف نگاہ رکھے بلکہ ان پر سختی کے ساتھ ان منشیات فروشوں کو لاگام دے اور ملکی قوانین کے تحت جوکہ 9 سی کے تحت سخت کاروائی کرے تاکہ مستقبل کےہماروں کوملک کا زمہ...